Wednesday, 14 May 2014

انگریزی ادب

انگریزی(انگلش) ادب سے مراد انگلینڈ میں لکھا گیا ادب ہے، جس کا آغاز پانچویں صدی عیسوی میں اینگلو ساکسنز کی جانب سے پرانی انگلش متعارف کروائے جانے کے ساتھ ہوا۔

پرانی انگلش کے ادب کا دور 450ء سے 1066 تک ہے جب نارمن فرانسیسیوں نے انگلینڈ کو فتح کیا۔ رومنوں کی پسپائی کے بعد پانچویں صدی میں یورپ پر چڑھائی کرنے والے جرمن قبائل اپنے ساتھ پرانی انگلش یا اینگلو ساکسن زبان لائے جو جدید انگلش کی بنیاد ہے۔ پرانی انگلش میں زیادہ تر شاعری کا مقصد حمدیں گانا تھا۔ یہ خوب صورت مگرا فسردہ شاعری زندگی کے دکھ اور فانی پن کے علاوہ تقدیر کے سامنے انسانوں کی لاچاری کا بھی رونا روتی ہے۔ ’’Beowulf‘‘ کی رزمیہ داستان اس کی ایک مثال ہے جو آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان لکھی گئی۔ اس کا آغاز اور اختتام ایک عظیم بادشاہ کے جنازے پر ہوتا ہے۔ مقدس حکایت اور کہانی نے بھی Beowulf جیسی ہیئت اختیار کر لی۔ پرانی انگلش میں نثر کی نمائندگی بہت سی مذہبی تصانیف کے ذریعہ ہوتی ہے۔ شمالی انگلینڈ میں ساتویں صدی عیسوی میں خانقاہوں کی متاثرکن دانشوری لاطینی کتاب ’’Historia Ecclesiastica Gentis Anglorum‘‘ (انگلش لوگوں کی کلیسیائی تاریخ) میں عروج کو پہنچی جس کا مصنف Bede تھا۔ 

1066ء سے 1485ء تک وسطی انگلش کا عہد تھا جب مقامی انگلش انداز ہائے سخن اور موضوعات پر فرانسیسی ادب کا گہرا اثر پڑا۔ عام ادبی ترکیب میں فرانسیسی نے کافی حد تک انگلش کی جگہ لے لی اور لاطینی زبان نے علم وفضل کی زبان کے طور پر اپنی حیثیت قائم رکھی۔ چودہویں صدی میں جب انگلش دوبارہ حکمران طبقات کی پسندیدہ زبان بنی تو متعدد تبدیلیوں کے عمل سے گزر چکی تھی۔ وسطی انگلش میں بولے جانے والے مختلف لہجے جدید انگلش جیسے تھے اور انہیں آج بھی کسی بڑی مشکل کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔

چودہویں اور پندرہویں صدیوں کا وسطی انگلش کا ادب سابقہ پرانی انگلش کے ادب سے کافی مختلف ہے۔ فرانسیسی اور حتیٰ کہ اطالوی عناصر کے کئی رنگوں نے وسطی انگلش ادب کو متاثر کیا، بالخصوص جنوبی انگلینڈ میں۔

انگلش ادب کا عہد زریں 1485ء سے شروع ہوا اور 1660ء تک جاری رہا۔ ولیم کاکسٹن کی شائع کردہ اولین تصانیف میں Malory کی ’’Le morte d'Arthur‘‘ بھی شامل تھی۔ 1476ء میں جب کاکسٹن نے انگلینڈ میں پرنٹنگ پریس متعارف کروایا تو کتب بینی میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ تاہم، سولہویں صدی کے آخری دو عشروں (ملکہ ایلزبتھ کا عہد) سے قبل نیا ادب پروان نہ چڑھ سکا۔ یورپی تحریک انسان دوستی میں انگلش حصہ بھی اسی عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان دوستی نے کلاسیکی ادب کے مطالعہ کو بہت زیادہ تقویت دی اور تعلیم میں اس طرح اصلاح کی کہ ادبی اظہار شائستہ افراد کی معراج بن گیا۔ جلد ہی انگلش شاعر اور نثر نگار قدیم انداز سخن کی طرز پر خود آگاہ ادیب بنے۔ تاہم، انسان دوستی کا نہایت براہ راست اثر شائستہ، واضح اور قابل فہم رویے کو رواج دینا تھا۔ اس کے پیروکاروں نے قرونِ وسطیٰ کی دینیاتی تعلیم اور توہمات کو مسترد کیا۔ ان مصنفین میں سر ٹامس مور ممتاز ترین ہے جس نے ’’یوٹوپیا‘‘ (1516ء) لکھی۔ انگلش ڈرامہ کا آئندہ انداز متشکل کرنے میں اہم ترین شخصیت بین جانسن تھا۔ اس کی کامیڈیز مثلاً ’’Volpone‘‘ (1606ء) اور ’’دی الکیمسٹ‘‘ (1610ء) نے ایک نیا انداز سخن متعارف کروایا۔

 ڈرامہ نگاروں فرانسس بیومونٹ اور جان فلیچر نے اسے اپنا استاد مانتے ہوئے المیہ کامیڈیز لکھیں۔ نشاۃ ثانیہ میں نثر کا اہم ترین کام بائبل کا انگلش ترجمہ تھا جو 1611ء میں شائع ہوا اور کنگ جیمز کا متن کہلاتا ہے۔ اس نے بعد کے تمام انگلش مصنفین کو متاثر کیا۔

1660ء میں چارلس دوم کی تخت پر بحالی سے لے کر 1789ء کا عہد ’’بحالی کا دور‘‘ کہلاتا ہے۔ نشاۃ ثانیہ کے ادب میں شاعرانہ القا یا تخیل کا عنصر غالب تھا۔ مارلو، شیکسپیئر اور ملٹن کے القائی تخیلات، سپنسر کا اچھوتا پن اور جان ڈن کا بے باک شاعرانہ انداز اس عمومی رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔ سترہویں صدی کی ابتدا میں ہی فرانسس بیکن نے استدلالیت پر زور دینا شروع کر دیا۔ اس نے ’’Advancement of Learning‘‘ (1605ء) اور ’’The New Atlantis‘‘ (1627ء) میں استدلال اور سائنسی طریقہ تفتیش کی حمایت کی۔ جان لاک کا ’’Essay Concerning Human Understanding‘‘ (1690ء) تجربے کو علم کی کسوٹی اور بنیاد بنا کر پیش کرتا ہے۔

 ڈیوڈ ہیوم نے ’’An Enquiry Concerning Human Understanding‘‘ (1748ء) میں اس نکتۂ نظر کو آخری حد تک پہنچایا۔ ’’Leviathan‘‘ (1651ء) میں تھامس ہوبز نے سیاسی مطلق العنانیت کو عقلی طور پر اخذ کردہ تصور کے ساتھ تبدیل کیا۔ اس کے مطابق حکمران کو الوہی حق کے تحت نہیں بلکہ ایک حقیقی اور ناقابل تنسیخ عمرانی معاہدے کے ساتھ حکومت کرنی چاہیے تاکہ ہمہ گیر امن اور مادی تسکین حاصل ہو سکے۔ انگلش میں عظیم ترین تاریخی کام غالباً چھ جلدوں پر مشتمل ’’The History of the Decline and Fall of the Roman Empire‘‘ (1776-88ء) از ایڈورڈ گبن ہے۔

عہد بحالی کے دوران اور اٹھارہویں صدی میں ادبی ذوق کے دیگر مراحل کو ڈرائیڈن، پوپ اور جانسن کے عہد قرار دیا جاتا ہے۔ ان تین عظیم ادبی شخصیات نے ادب میں کلاسیکی روایت کو جاری رکھا۔ 

1789ء سے 1837ء کا دور رومانوی عہد کہلاتا ہے جب وفور جذبات نے عقل پر فوقیت حاصل کر لی۔ انقلاب فرانس کا ایک مقصد پرانی مصنوعی بن چکی روایت کا خاتمہ کرنا اور انسانی نسل کی آزادی و اتحاد پر زور دینا تھا۔ رومانوی عہد کے بہت سے لکھاریوں کے لیے یہ مقصد انگلش علم وفضل کے میدان میں بھی اتنا ہی موزوں معلوم ہوا۔ اس کے علاوہ عقل یا استدلال پر وجدان اور جذبے کا غلبہ انگلش ادب میں رومانوی عہد کی پہچان تھا۔ رومانویت کا پہلا اہم اظہار ولیم ورڈزورتھ اور سیموئیل ٹیلر کالرج کے ’’Lyrical Ballads‘‘ (1798ء) میں ملتا ہے۔ دونوں نے انقلاب فرانس سے تحریک پائی اور پھر مایوس ہو گئے۔ ورڈزورتھ نے باتخصیص طور پر شاعرانہ زبان استعمال کرنے کے نظریے کو مسترد کیا اور اس کی بجائے روزمرہ زبان کی عام باتوں اور الفاظ کو اہمیت دی۔ سر والٹر سکاٹ نے سیموئیل ٹیلر کالرج کی طرح دور کے زمانوں میں مسرت تلاش کی، مثلاً ’’The Lady of the Lake‘‘ (1810ء) میں۔ 

رومانوی شاعروں کی دوسری نسل کالرج، ورڈزورتھ اور سکاٹ کے برعکس اپنے تمام کیریئرز کے دوران ایک لحاظ سے انقلابی رہے۔ جارج گورڈن لارڈ بائرن سماج کے خلاف المیہ بغاوت کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح چائلڈ ہیرلڈ کی نظموں کے مجموعے ’’Pilgrimage‘‘ (1812ء) اور ’’Don Juan‘‘ (1819-24ء) میں بھی یہ تاثر موجود ہے۔ اس عہد کا ایک اور انقلابی شاعر پی بی شیلے دیگر رومانویوں کی سنجیدگی کے بہت قریب نظر آتا ہے۔ شاید یہ خیالات ’’Prometheus Unbound‘‘ (1820ء) میں سب سے زیادہ کامل انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ کیٹس کی شاعری حسیاتی تاثرات کا ردعمل ہے۔ اسے اپنی شاعری میں ایک مکمل اخلاقی یا سماجی فلسفہ پیش کرنے کی مہلت اور نہ ہی تحریک ملی۔

1837ء میں ملکہ وکٹوریا کی تاج پوشی سے شروع ہونے والا وکٹوریائی عہد 1901ء میں اس کی موت تک جاری رہا۔ یہ متعدد بے ترتیب سماجی ترقیوں کا عہد تھا جنہوں نے اہل قلم کو فوری نوعیت کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کیا۔ اگرچہ انگلش ادب کی شاعری اور نثر میں رومانوی انداز ہائے سخن غالب رہے، لیکن بہت سے لکھاریوں نے انگلش جمہوریت، عوام کی تعلیم، صنعتی جستجو کی ترقی اور مادیت پسندانہ فلسفے پر بھی توجہ دی۔انہوں نے صنعتی مزدوروں کی حالت زار کو بھی موضوع بنایا۔ 

بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں، ایک شدید معاشی بحران اور جنگوں کے بعد برطانیہ میں سخت گیر زندگی انگلش ادب کا معیار اور سمت متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ نئے ادیبوں نے وکٹوریائی عہد کی روایتی اقدار پر سوالات اٹھائے۔ روایتی ادبی انداز اکثر مسترد کیے اور ان کی جگہ یکایک نئے انداز اپنائے گئے کیونکہ ادیب تجربے کی نئی اقسام بیان کرنے کے لیے نئے انداز ہائے سخن کے متمنی تھے۔

 ورجینیا وولف، آلڈس ہکسلے، ای ایم فارسٹر، ڈی ایچ لارنس، جیمز جوائس، گراہم گرین، جارج آرویل، جارج برنارڈ شا، کنگسلے ایمس،ڈورس لیسنگ، انیتا بروکنر، ولیم گولڈن، جان فاؤلز، جولیان بارنز، میگی سمتھ، مارٹن ایمس، وی ایس نیپال، انیتا ڈیسائی، ڈبلیو بی Yeats، رابرٹ گریوز، ایڈتھ سٹویل، ڈائلان تھامس، ڈبلیو ایچ آدن، کرسٹوفر ایشرووڈ، جان گلاسوردی، جان اوسبورن، سامرسیٹ ماہم، ہیرلڈ پنٹر، سیموئیل بیکٹ، اور کارلائل چرچل نے بیسویں صدی میں انگلش شاعری، ڈرامہ، ناول اور نثر کو مستحکم بنیادیں فراہم کیں۔

(یاسر جواد) 

 (انسائیکلو پیڈیا ادبیاتِ عالم سے ماخوذ)

No comments:

Post a Comment